تاثیر 05 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
لکھنؤ، 05 ستمبر: یومِ اساتذہ کے موقع پر اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے پبلک اسکولز اینڈ کالجز میں ہفتہ کو اساتذہ کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے شرکت کی۔ انہوں نے اساتذہ کو معاشرے اور آنے والی نسلوں کا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ ہی ہمارے محافظ ہیں اور وہی بچوں کا مستقبل سنوارتے ہیں۔اکھلیش یادو نے کہا کہ اساتذہ کو تدریس کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں تقریباً 26 ہزار پرائمری اسکول بند ہوچکے ہیں اور اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو ان اسکولوں کو دوبارہ کھولا جائے گا۔انہوں نے خستہ حال اسکولوں کی تصاویر یا ویڈیوز بنانے پر مقدمات درج کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انگریزوں کے دور میں بھی کبھی تعلیم کے معاملے پر مقدمہ درج نہیں کیا گیا، لیکن آج ایسا کیا جا رہا ہے۔ یومِ اساتذہ کے موقع پر انہوں نے سابق صدر جمہوریہ اور عظیم ماہرِ تعلیم سروپلی رادھا کرشنن کو یاد کرتے ہوئے تعلیم اور اساتذہ کے احترام کا عہد کرنے کی اپیل کی۔تقریب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے سہارنپور کلکٹریٹ میں مبینہ غیر قانونی مسجد کے انہدام کی کارروائی پر ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جو لوگ دوسرے مذاہب کا احترام نہیں کرتے اور دوسروں کے عقیدے کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں، وہ کبھی سناتنی نہیں ہوسکتے۔‘‘

