تاثیر 27 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
لکھنؤ، 27 ستمبر: اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اتوار کو لکھنؤ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن پر ایس آئی آر کے بارے میں مسلسل کنفیوڑن پھیلانے کا الزام لگایا۔ وزیر اعلی نے کہا کہ تینوں الیکشن کمشنروں نے مل کر موقف واضح کیا تھا، لیکن ہندوستان کے آئینی عمل کو کانگریس اور دیگر جماعتوں کی طرف سے کٹ گھرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔ انہیں اس کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔وزیر اعلی یوگی نے کہا کہ پہلی بار ایس آئی آر نہیں ہوا ہے۔ اس ملک میں مختلف اوقات میں اور زیادہ تر وقت ملک کے اندر کانگریس کی قیادت میں حکومتیں رہی ہیں۔ اس سے پہلے 1952, 1957, 1961, 1966 اور 2003 کا ایس آئی آر بھی رہا ہے۔ اس سب کے باوجود جس طرح سے سب سے بڑی پارٹی اور دیگر جماعتوں نے اس بار کی کارروائی پر ہنگامہ آرائی کی ہے وہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ سب سے طویل عرصے تک ملک پر حکومت کرنے والی کانگریس پارٹی مسلسل الیکشن کمیشن کو کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ اگر کانگریس یا دیگر اپوزیشن جماعتیں جیت جاتی ہیں تو سب ٹھیک ہے۔ اگر جنتا ان کو قبول کرتے ہیں تو عوام کمیشن کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان جماعتوں کو خود اس پر غور کرنا چاہیے، خود جائزہ لینا چاہیے۔راہل گاندھی نے کیمبرج میں عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوال اٹھایا تھا۔وزیر اعلی نے کہا کہ ہر آئینی ادارے کو یہ لوگ مسلسل کٹہرے میں کھڑا کررہے ہیں۔

