تاثیر6 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
لکھنؤ، 6 اکتوبر: اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے منگل کو ریاست کے عوام کو اتر پردیش کی ترقی اور گزشتہ چند برسوں میں ہونے والی پیش رفت سے روشناس کرایا۔ انہوں نے 2017 کے بعد ریاست کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ایکس‘ پر پوسٹ شیئر کی۔ وزیراعلیٰ نے سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ جب ریاست سے زیادہ خاندان اور سرمایہ کار سے زیادہ جرائم پیشہ عناصر کی فکر ہو تو مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لیے سازگار ماحول کیسے تیار ہوگا؟
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے ریاست کی بے پناہ صلاحیتوں کا مناسب استعمال نہیں کیا بلکہ اسے ’بیمارو‘ ریاست بنائے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ’میک ان انڈیا‘، ’ڈیجیٹل انڈیا‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘ کا جو وژن دیا، ڈبل انجن حکومت نے اسے اتر پردیش میں پالیسی، سرمایہ کاری اور پیداوار سے جوڑ کر عملی شکل دی ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے بتایا کہ گزشتہ ساڑھے نو برس میں ملک میں تیار ہونے والے تقریباً 60 فیصد موبائل فون اور 55 فیصد الیکٹرانکس کمپوننٹس میں اتر پردیش کا حصہ ہے۔ جیور میں 3,706 کروڑ روپے کی لاگت سے ایچ سی ایل-فوکس کان چپ یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔ ریاست میں 644 میگاواٹ کے ڈیٹا سینٹرز کے منصوبوں کی تجاویز آ چکی ہیں، جبکہ 24 ہزار سے زیادہ اسٹارٹ اپ اور آٹھ یونیکورن موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کا یہ سفر موبائل سے ماڈیول اور ماڈیول سے مائیکروچپ تک پہنچ چکا ہے۔

