مدھیہ پردیش کی طالبات پر کمیشن مہربان، اسکولوں میں طالبات کو معیاری سہولیات فراہم کرنے کا عزم

تاثیر5 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھوپال، 05 اکتوبر: مدھیہ پردیش میں ریاستی کمیشن برائے تحفظِ حقوقِ اطفال نے اسکولوں میں زیرِ تعلیم طالبات کے لیے محفوظ، صاف ستھرا اور باوقار ماحول فراہم کرنے کے مقصد سے ریاست کے سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں میں طالبات کے لیے بیت الخلا، پانی، سکیورٹی، سینیٹری پیڈ سے لے کر خفیہ شکایتی نظام تک تمام ضروری سہولیات کے جائزے اور نگرانی کے لیے ایک جامع نظام تیار کرنے کی پہل کی ہے۔
کمیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر نودیتا شرما نے مدھیہ پردیش حکومت کے محکمہ اسکولی تعلیم کے پرنسپل سیکریٹری کو خط بھیج کر ’گرل ڈگنیٹی انڈیکس‘ (طالبات کے وقار کا اشاریہ) تیار کرنے اور اس کی بنیاد پر اسکولوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کو کہا ہے۔ اس اشاریے کی بنیاد پر اسکولوں کو ’گرین‘، ’ییلو‘ یا ’ریڈ‘ زمرے میں رکھا جائے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ کمیشن کی اس پہل کو عام انتظامی معائنے سے آگے بڑھ کر طالبات کے تعلیم کے حق، صحت، تحفظ، رازداری اور وقار کو اسکولی نظام کے مرکز میں رکھنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ تجویز میں واضح کیا گیا ہے کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قانون، 2005 کی دفعہ 17 کے تحت کمیشن کو بچوں کے حقوق کے تحفظ، فروغ اور نگرانی کی قانونی ذمہ داری حاصل ہے۔ اسی کے تحت اسکولوں میں طالبات کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کمیشن نے حکومت کے سامنے متعدد ٹھوس تجاویز پیش کی ہیں۔