مدھیہ پردیش میں تیزی سے بدل رہی تعلیم کی تصویر، سرکاری اسکول نجی اسکولوں سے آگے نکلے

تاثیر5 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھوپال، 05 اکتوبر: مدھیہ پردیش میں اسکولی تعلیم کا منظرنامہ آج تیزی سے بدل رہا ہے۔ ریاست کے سرکاری اسکول کامیابی، معیار اور نئے ریکارڈ قائم کرنے کے مراکز بن چکے ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر بورڈ امتحانات کے تاریخی نتائج سے لے کر سرکاری اسکولوں میں بڑھتے ہوئے داخلوں تک واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔
درحقیقت، سال 2026 کے بورڈ امتحانات میں بارہویں جماعت کا 76.01 فیصد نتیجہ گزشتہ 16 برسوں میں بہترین رہا ہے۔ وہیں دسویں اور بارہویں دونوں جماعتوں میں سرکاری اسکولوں نے نجی اسکولوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آج ریاست کی بیٹیاں میرٹ لسٹ میں سب سے آگے ہیں اور عام و کسان خاندانوں کے بچے ڈاکٹر، انجینئر، سی اے، وکیل، زرعی سائنس دان اور کاروباری بننے کے اپنے خواب پورے کر رہے ہیں۔
اسکول ایجوکیشن کے بجٹ میں اضافہ
ریاست کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی مؤثر قیادت میں ریاستی حکومت تعلیم کے فروغ اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل پابند عہد ہے۔ آزادی کے بعد 1956 میں مدھیہ پردیش کے قیام سے اگلے 55 برسوں میں جہاں ریاست کا کل بجٹ صرف 22 ہزار کروڑ روپے تھا اور 2002تا2003 تک اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا بجٹ محض 2,600 کروڑ روپے ہوا کرتا تھا، وہیں موجودہ حکومت نے سال 2025تا2026 کے مجموعی 4 لاکھ 38 ہزار کروڑ روپے کے بجٹ میں سے صرف اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے لیے 38 ہزار کروڑ روپے کی تاریخی رقم مختص کی ہے۔