امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کی مہم تیز، اوباما کی ٹرمپ پر کڑی تنقید

تاثیر25 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن، 25 اکتوبر: امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں اب صرف 10 دن باقی رہ گئے ہیں۔ ایسے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق صدر باراک اوباما نے انتخابی مہم میں پوری طاقت جھونک دی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنی اپنی جماعتوں کے امیدواروں کی حمایت میں انتخابی ریلیوں اور پروگراموں میں شرکت کی۔ ٹرمپ نے آج رات جارجیا کے شہر پیری میں ریلی کی، جبکہ باراک اوباما نے ڈیٹرائٹ میں سینیٹ کے امیدوار عبدالسید اور مشی گن کے دیگر ڈیموکریٹ رہنماؤں کے ساتھ ایک پروگرام میں شرکت کی۔ اوباما اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلسل ٹرمپ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
امریکی ٹی وی چینل سی این این کی رپورٹ کے مطابق، باراک اوباما ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے مشی گن میں بھی، اوہائیو کی طرح، ٹرمپ انتظامیہ کے دور کو ’افراتفری، بے رحمی اور بدعنوانی‘ سے تعبیر کرتے ہوئے سخت تنقید کی۔ رپورٹ کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی اب ان ریاستوں میں زیادہ جارحانہ انداز میں انتخابی مہم چلا رہی ہے جہاں مقابلہ سخت ہے، جبکہ ریپبلکن پارٹی کے حکمت عملی سازوں کو بعض نشستیں اپنے حق میں کرنے کے مواقع سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔
دریں اثنا، ٹرمپ نے جارجیا میں ریپبلکن پارٹی کو درپیش انتخابی چیلنجوں کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے حامیوں سے کہا کہ اگر وہاں ریپبلکن پارٹی سینیٹ کا انتخاب جیت جاتی ہے تو یہ ایک ’بڑی حیرت‘ ہوگی۔ صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے فلوریڈا میں مقررہ وقت سے پہلے اپنا ووٹ ڈالا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس انتخابی مرحلے میں قبل از وقت ووٹنگ کی حمایت کرنے کے باوجود ٹرمپ ماضی میں قبل از وقت ووٹنگ اور ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔