تاثیر31 اکتورب ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 31 اکتوبر: ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کے موضوع پر تشکیل دی گئی پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے چیئرمین پی پی چودھری نے اپنے دہلی واقع رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کے نظام سے علاقائی سیاسی جماعتوں، وفاقی ڈھانچے اور آئین کی بنیادی ساخت کو مضبوطی مل سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 30 اکتوبر کو دہلی میں منعقدہ کمیٹی کی میٹنگ میں ملک کے معروف سیاسی ماہرین اور ماہرینِ معاشیات نے اس موضوع کے سیاسی اور اقتصادی پہلوؤں پر اپنی رائے پیش کی۔
اس میٹنگ میں سوامی ناتھن گرو مورتی، پروفیسر مہندر دیو، پروفیسر پامی دوا اور ڈاکٹر شمیکا روی نے اپنی تجاویز پیش کیں۔ ان میں پروفیسر مہندر دیو، پروفیسر پامی دوا اور ڈاکٹر شمیکا روی وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے ارکان بھی ہیں۔
پی پی چودھری کے مطابق، بحث کے دوران یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرانے سے علاقائی جماعتوں کی اہمیت کم ہو سکتی ہے یا اس سے وفاقی نظام اور آئین کی بنیادی ساخت متاثر ہو سکتی ہے؟ تاہم میٹنگ میں شریک ماہرین کی رائے اس کے برعکس رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ساتھ انتخابات کرانے سے علاقائی جماعتوں اور وفاقی ڈھانچے کو فروغ مل سکتا ہے۔

