الیکشن کمیشن دفتر مارچ پر اپوزیشن بضد، راہل اور پرینکا آکاش وانی بھون میں دھرنے پر بیٹھے

تاثیر6 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 6 اکتوبر: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر انڈیا اتحاد کی 19 اپوزیشن جماعتوں کا ’’سیو ڈیموکریسی مارچ‘‘ منگل کو دہلی میں بڑے احتجاج میں تبدیل ہوگیا۔ پارلیمنٹ سے انتخابی کمیشن کے دفتر تک مارچ نکالنے والے اپوزیشن رہنماؤں کو پولیس نے کئی مقامات پر روک دیا۔ اس کے بعد لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا آکاش وانی بھون پہنچ گئے، جہاں دونوں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دفتر تک جانے کی اجازت ملنے تک احتجاج جاری رہے گا۔
اپوزیشن رہنماؤں نے نئی پارلیمنٹ ہاؤس کے علاقے سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ شروع کیا تھا، تاہم سخت حفاظتی انتظامات اور بیریکیڈنگ کے باعث پولیس نے جلوس کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس دوران راہل گاندھی ہاتھ میں ترنگا لے کر بیریکیڈ پر چڑھ گئے اور احتجاج کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کی قیادت کرتے نظر آئے۔
پولیس کی جانب سے روکے جانے کے بعد راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور کئی دیگر رہنما آکاش وانی بھون کے احاطے میں پہنچ گئے، جہاں انہوں نے تقریباً دو گھنٹے تک دھرنا دیا۔ آکاش وانی بھون الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر سے تقریباً 270 میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اسی دوران کانگریس اور این ایس یو آئی کے کارکن بھی وہاں پہنچ گئے۔ کچھ کارکن احاطے کے گیٹ اور بسوں پر چڑھ گئے، جنہیں ہٹانے کے لیے پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔
صورتحال کے پیش نظر دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف)اور دیگر سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔ آکاش وانی بھون اور الیکشن کمیشن کے دفتر کے اطراف ڈرون کے ذریعے بھی نگرانی کی گئی۔ علاقے میں بھارتی شہری تحفظ سنہتا کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کیے گئے۔