بی جے پی اور سی پی آئی کے انتخابی کیمپوں کو لے کر ہنگامہ، ڈی ایم اور ایس ایس پی کے پہنچتے ہی مچی کھلبلی

تاثیر23 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

سکیورٹی فورسز نے ہنگامہ کرنے والوں کو کھدیڑا، دونوں امیدواروں کے کیمپ کرائے گئے خالی
مظفّرپور (نُزہت جہاں)
 بہار قانون ساز کونسل کے تِرہت اساتذہ انتخابی حلقے کے انتخابات کے دوران جمعہ کے روز کلکٹریٹ احاطے میں اس وقت افرا تفری مچ گئی، جب امیدواروں کے انتخابی کیمپوں میں بھیڑ کو لے کر تنازع شروع ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ گرم ہوگیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلع مجسٹریٹ کمار گورو اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کانتیش کمار مشرا موقع پر پہنچے۔ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے محاذ سنبھالا اور ہنگامہ کرنے والے لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، کلکٹریٹ احاطے میں اساتذہ انتخابی حلقے کے لیے پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے۔ اسی احاطے میں بی جے پی امیدوار نریندر سنگھ اور بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) کے امیدوار سنجے سنگھ کے حامیوں نے اپنے اپنے انتخابی کیمپ لگا رکھے تھے۔ اسی دوران ڈیوٹی پر تعینات مجسٹریٹ بی جے پی امیدوار کے کیمپ میں پہنچے۔ وہاں زیادہ بھیڑ دیکھ کر انہوں نے لوگوں کو جگہ خالی کرنے کی ہدایت دی۔ اس بات پر کچھ حامی ناراض ہوگئے اور مجسٹریٹ سے ان کی شناخت پوچھنے لگے۔ تنازع کے دوران کچھ حامی سی پی آئی امیدوار سنجے سنگھ کے کیمپ میں بھی پہنچ گئے اور پہلے اس کیمپ کو خالی کرانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ اسی معاملے پر بحث و تکرار بڑھ گئی اور پورے احاطے میں ہنگامے کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ الزام ہے کہ اس دوران مجسٹریٹ کے ساتھ دھکا مکی بھی کی گئی، تاہم اس الزام کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ ہنگامے کی اطلاع ملتے ہی ضلع مجسٹریٹ کمار گورو اور ایس ایس پی کانتیش کمار مشرا جائے وقوع پر پہنچے۔ سکیورٹی فورسز نے ہنگامہ کرنے والوں کو وہاں سے کھدیڑ دیا اور دونوں انتخابی کیمپوں کو خالی کرا دیا۔ افسران نے واضح انتباہ دیا کہ انتخابات کے دوران امن و قانون کی صورت حال بگاڑنے یا ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
کچھ دیر پہلے تک شور شرابے اور ہنگامے کا گواہ بنے کلکٹریٹ احاطے میں افسران کی سختی کے بعد حالات معمول پر آگئے۔ دونوں امیدواروں کے کیمپ خالی کرائے جانے کے بعد وہاں خاموشی چھا گئی۔ انتخابات کے دوران پیش آئے اس واقعے نے پولنگ مراکز کے آس پاس سکیورٹی انتظامات اور انتخابی ضابطۂ اخلاق پر عمل درآمد کے معاملے کو ایک بار پھر اہم بنا دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ مجسٹریٹ کے ساتھ مبینہ دھکا مکی کے معاملے میں انتظامیہ آگے کیا کارروائی کرتی ہے۔