تنوع کی طاقت بنام نفرت کی سیاست

تاثیر6 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے حال ہی میں جو بیانات دیے ہیں، ان سے ریاست کی سیاست کا ایک واضح رخ سامنے آیا ہے۔ ’گوماتا ‘کی حفاظت، یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کا نفاذ، ’لوو جہاد‘ اور مذہب کی تبدیلی کے خلاف سخت قوانین بنانے اوربھارتی ثقافت و مندروں پر حملوں کی اجازت نہیں دینے جیسے اعلانات نے بحث کا دروازہ کھول دیا ہے۔ یہ بیانات آئین کے دائرے میں کام کرنے کے دعوے کے ساتھ دیے گئے ہیں، لیکن ان کا لہجہ اور سیاق و سباق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مذہبی جذبات کو سیاسی قوت بنانے کا رجحان اب بنگال میں بھی تیزی سے جڑ پکڑ رہا ہے۔
بھارت کا آئین سب سے بڑی ضمانت ہے کہ ہر شہری کو مذہب، زبان اور ثقافت کی آزادی حاصل ہے۔ آرٹیکل 25 سے 28 تک مذہبی آزادی، اور آرٹیکل 14 , 15 مساوات اور امتیاز کی ممانعت کو یقینی بناتے ہیں۔ کوئی بھی حکومت آئین کے مطابق کام کرنے کا دعویٰ کرے تو اسے ان اصولوں کا احترام کرنا چاہئے۔ یکساں سول کوڈ کا تصور آئین کے آرٹیکل 44 میں ہدایت کے طور پر موجود ہے، لیکن اسے نافذ کرتے وقت سب کمیونٹیز کے تحفظات کو سننا اور اعتماد پیدا کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ اقدام صرف ایک مذہبی گروہ کے جذبات کی تسکین کے لئے استعمال ہو تو اس سے سماجی تناؤ بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
بھارت کی سب سے بڑی طاقت اس کی ساجھی سنسکرتی اور ساجھی وراثت ہے۔ یہاں صدیوں سے مختلف مذاہب کے لوگ ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔ بنگال خود اس روایت کا روشن مثال ہے۔ چیتنیہ مہا پربھو کی بھکتی تحریک، سوامی وویکانند کی عالمگیر انسانیت، اور صوفی سنتوں کی تعلیمات نے اس سرزمین کو رواداری کا گہوارہ بنایا ہے۔ مندروں، مسجدوں، گرودواروں اور گرجا گھروں نے یہاں ہمیشہ ساتھ ساتھ وجود رکھا ہے۔ اس ساجھی وراثت کو صرف ایک مذہب کی حفاظت تک محدود کرنا اس کی روح کے خلاف ہے۔ جب حکومت مذہبی سیاحت سرکٹ یا اجتماعی گیتا پاٹھ جیسے پروگراموں کا اعلان کرتی ہے تو یہ ثقافتی فروغ ہو سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی دوسرے مذاہب کے مقامات اور روایات کا بھی برابر احترام ہونا چاہئے۔
سیاست میں مذہبی منافرت کو ہوا دینے کا رجحان آج کے دور کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ ’لوو جہاد‘ اور ’لینڈ جہاد‘ جیسے الفاظ اکثر بغیر ٹھوس ثبوت کے استعمال ہوتے ہیں اور سماج میں خوف و نفرت پیدا کرتے ہیں۔ جب حکومت کا کوئی نمائندہ ان اصطلاحات کو قانون سازی کی بنیاد بنائے تو یہ پیغام جاتا ہے کہ ایک کمیونٹی دوسرے کے لئے خطرہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نفرت کی سیاست پر اقتدار کا محل کھڑا کیا جا سکتا ہے، لیکن اس محل کی بنیاد کھوکھلی ہوتی ہے۔ ملک کی خوش حالی، معاشی ترقی، تعلیم اور صحت جیسی حقیقی کامیابیاں امن و امان اور بقائے باہمی کے اصول کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔ جب سماج تقسیم کا شکار ہو، تو سرمایہ کاری رکتی ہے، نوجوانوں کے لئے مواقع کم ہوتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی ٹوٹ جاتی ہے۔
مغربی بنگال جیسی ریاست میں، جس نے چند ماہ قبل ہی سیاسی تبدیلی کا دور دیکھا ہے، حکومت کو چاہئے کہ وہ آئینی اقدار کو صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل میں ظاہر کرے۔ آئین کے مطابق کام کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اکثریت کے جذبات کو ہوا دی جائے اور اقلیتوں کو تشویش میں ڈالا جائے۔سچائی یہ ہے کہ بھارت کی ترقی اس وقت ممکن ہوئی، جب یہاں تنوع کو طاقت سمجھا گیا، نہ کہ کمزوری ۔ اگر آج کی سیاست مذہبی خطوط پر تقسیم کو فروغ دے گی تو کل کے بھارت میں نہ تو امن رہے گا اور نہ حقیقی ترقی۔
بہر کیف، ہر ایک ریاست اور مرکزی حکومت کو یہ سوچنا چاہئے کہ اقتدار عارضی ہے، لیکن قوم کی وحدت مستقل ہے۔ نفرت سے ووٹ حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن خوش حال اور مضبوط بھارت صرف امن، رواداری اور ساجھی وراثت کے احترام سے ہی بن سکتا ہے۔ یہی راستہ ملک کو آگے لے جا سکتا ہے، باقی سب راستے تنگ اور محدود ہیں۔