تاثیر 17 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دنیا اب بھی سمجھ رہی ہے کہ آبنائے ہر مز کا بحران صرف پٹرول اور ڈیزل سے جڑا ہوا ہے، مگر حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ ایران نے اس تنگ گزرگاہ کو بند کر کے امریکہ کی وہ دو نازک رگیں دبا رکھی ہیں ،جو اس کی جدید ترین میزائلوں، فائٹر جیٹس، مصنوعی ذہانت اور دفاعی نظام کی بنیاد ہیں۔فی الحال صورتحال یہ ہے کہ کشتیوں کی نقل و حرکت تقریباً رک چکی ہے، عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو’’سلو ڈیتھ ‘‘ کا احساس ستانے لگا ہے۔ سچ بات یہ ہے کہ یہ محض تیل کی جنگ نہیں، بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی سلطنت پر ایک حکمت عملی آمیز دباؤ ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکہ کی دو اہم لائف لائنز پر قبضہ کر لیا ہے۔ پہلی ہے سلفیورک ایسڈ کی سپلائی چین۔ دنیا کی 90 فیصد سے زائد ایڈوانسڈ سیمی کنڈکٹر چپس تائیوان کی ٹی ایس ایم سی کمپنی میں بنتی ہیں۔ ان چپس کے بغیر امریکہ کے اے آئی ڈیٹا سینٹرز، میزائل سسٹم، فائٹر جیٹس، سیٹلائٹس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ سب رک سکتے ہیں۔ چپس بنانے کے لئے الٹرا پیور سلفیورک ایسڈ ضروری ہے، جو سلفر سے تیار ہوتا ہے۔ سلفر کچھے تیل کی ریفائننگ سے نکلتا ہے۔ خلیج کے ممالک ،جو عالمی سلفر ایکسپورٹ کا تقریباً 50 فیصد فراہم کرتے ہیں،سے یہ سلفر ہرمز کے راستے تائیوان جاتا ہے۔ ہرمز بند ہونے سے یہ سپلائی رک گئی ہے۔ ٹی ایس ایم سی جیسی فیکٹریاں بغیر اس ایسڈ کے چل نہیں سکتیں۔
دوسری نازک رگ تائیوان کی بجلی ہے۔ تائیوان کی تقریباً آدھی بجلی ایل این جی (مائع قدرتی گیس) سے چلتی ہے، جو قطر سے آتی تھی۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے تائیوان کے پاس صرف 8 سے 11 دن کا اسٹاک تھا۔ اب متبادل ذرائع (آسٹریلیا اور امریکہ) سے کچھ فراہمی یقینی ہوئی ہے، مگر مکمل طور پر نہیں۔ بجلی کا بحران چپس کی فیکٹریاں بند کر سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ صاف ہے۔اگر حالات کچھ دنوں تک ایسے ہی رہے تو امریکہ کی ٹیک انڈسٹری،نویڈیا، ایپل ، گوگل اور دفاعی کمپنیاں سب متاثر ہو سکتی ہیں۔اور اس سے چین کو فائدہ ہو سکتا ہے۔یہی ایران کا’’ترپ کا پتا‘‘ ہے، جس نے واشنگٹن کو حیران کر دیا ہے۔
آبنائے ہر مزیہ بحران عالمی سطح پر بھی سنگین اثرات مرتب کر رہا ہے۔ تیل کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، زرعی کھادوں اور دیگر صنعتوں پر دباؤ ہے۔ مگر سب سے بڑا دھچکا امریکہ کی ہائی ٹیک سلطنت کو لگ رہا ہے، جو تیل سے زیادہ چپس اور ایل این جی پر منحصر ہے۔ ایران کا موقف واضح ہے۔اس کے مطابق یہ اس کی خودمختاری اور سلامتی کا معاملہ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے جواب میں اس نے ہرمز کو کنٹرول کیا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کے تحت بھی اس کے دائرۂ اختیار میں ہے۔
بھارت کے لئے یہ صورتحال دوہری ہے۔ بھارت خلیج سے تیل کی بڑی مقدار درآمد کرتا ہے اور ہرمز اس کی توانائی سلامتی کا اہم راستہ ہے۔ قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی بڑھے گی، صنعت متاثر ہوگی۔ مگر اس بحران نے بھارت کو ایک موقع بھی دیا ہے۔ بھارت اور ایران کے دیرینہ تعلقات ہیں۔ چابہار پورٹ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جو امریکہ کی یک طرفہ پالیسیوں کا متبادل فراہم کرتی ہے۔ بھارت کو چاہئے کہ وہ سفارتی طور پر فعال رہے، تمام فریقوں سے بات چیت کرے اور اپنی توانائی کی تنوع کو تیز کرے۔ یہ نہ صرف بھارت کی سلامتی بلکہ عالمی استحکام کے لئے بھی اہم ہے۔متوازن نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہرمز کا بحران کسی ایک فریق کی جارحیت کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ امریکہ کی طویل مدتی پابندیوں اور حالیہ تنازعات کا ردعمل ہے۔ ایران نے ثابت کیا ہے کہ چھوٹے ممالک بھی حکمت عملی سے عالمی طاقتوں کو روک سکتے ہیں۔ مگر طویل بندش سے عالمی معیشت، غریب ممالک اور ایشیا کی ٹیک انڈسٹری سب متاثر ہو رہے ہیں۔
اب وقت ہے کہ سفارت کاری غالب آئے۔ امریکہ کو اپنے غرور سے بالاتر ہو کر بات چیت کرنی چاہئے، ایران کو اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے ساتھ عالمی تجارت کی سہولت دینی چاہئے۔ بھارت جیسے ذمہ دار ملک کو اس میں ثالثی یا تعاون کا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ یہ بحران نہ صرف ختم ہو بلکہ مستقبل میں ایسے تنگ گزرگاہوں کی حفاظت کے لئے عالمی ضابطے مضبوط ہوں۔بہر حال آبنائے ہرمز کا یہ بحران تیل سے زیادہ جدید دنیا کی اہم ٹیکنالوجی سے جڑا ہوا ہے۔ ایران نے امریکہ کی دو نازک رگوں کو زوردار طریقے سے پکڑ لیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کتنا جلد’سلو ڈیتھ ‘‘ سے نکل پاتا ہے اور دنیا کتنی جلد امن کی طرف بڑھتی ہے۔
*********

