تاثیر 16 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
اندور، 16 مئی:مدھیہ پردیش کے اندور ضلع کے دھار روڈ پر واقع ’’ڈیو ڈراپ اریگیشن‘‘ نامی پلاسٹک دانہ بنانے والی فیکٹری میں ہفتہ کی صبح تقریباً 7 بجے اچانک خوفناک آگ لگ گئی۔ آگ اتنی خوفناک تھی کہ اس سے نکلنے والے کالے دھوئیں کے بادل کئی کلومیٹر دور سے ہی صاف نظر آرہے تھے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی ٹیم موقع پر پہنچی اور آگ بجھانا شروع کیا۔حادثے کی سنگینی کے پیشِ نظر میونسپل کارپوریشن کمشنر کستج سنگھل سمیت پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بھی فوراً موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ احتیاط کے طور پر فیکٹری کے آس پاس کے پورے علاقے کو خالی کرا لیا گیا ہے تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ راحت کی بات یہ رہی کہ ا?ج اماوس ہونے کی وجہ سے فیکٹری میں مزدور نہیں ا?ئے تھے۔ فیکٹری مالک محمد جاوید قریشی نے بتایا کہ کارخانے میں دن رات کی شفٹوں میں تقریباً 30 سے 35 لوگ کام کرتے ہیں، لیکن چھٹی ہونے کی وجہ سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ مالک کے مطابق، آگ احاطے میں لگی ڈی پی میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی تھی، جس نے وہاں رکھے پلاسٹک دانے کے باعث دیکھتے ہی دیکھتے خوفناک شکل اختیار کر لیا۔
آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 7 گاڑیاں گزشتہ 4 گھنٹوں سے مسلسل مشقت کر رہی ہیں، جس میں اب تک 35 ٹینکروں سے زیادہ پانی اور خصوصی فوم کا استعمال کیا جا چکا ہے۔ آر آر سی اے ٹی کے ڈپٹی فائر ا?فیسر اجے کمار نے بتایا کہ موقع پر پانی کا کوئی براہِ راست ذریعہ نہیں ہونے کی وجہ سے ا?گ بجھانے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس لیے بیرونی ٹینکروں سے فائر کی گاڑیوں کو ری فل کیا جا رہا ہے۔ مقامی سطح پر شری رام تراولی کے سرپنچ جتیندر چودھری اور گاوں والوں نے بھی اپنے ٹیوب ویل سے پانی فراہم کر کے مدد کی۔ آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے جدید فائر فائٹنگ روبوٹ اور پوکلین مشینوں کو بھی کام پر لگایا گیا ہے۔ فائر فائٹرز فیکٹری کے ٹین شیڈ اور ملبے کو ہٹا کر پانی ڈال رہے ہیں، کیونکہ فی الحال فیکٹری کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں ہے۔ حکام کے مطابق آگ پر مکمل قابو پانے میں ابھی دو سے تین گھنٹے کا وقت مزید لگ سکتا ہے۔

