تاثیر 19 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مہاراشٹر کی سیاست میں زبردست ہلچل مچی ہوئی ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے نو لوگ سبھا اراکین میں سے چھ کی بغاوت اور ایک ناتھ شنڈے کے گروپ میں ممکنہ الحاق نے پارٹی کو شدید بحران میں ڈال دیا ہے۔ کل جمعرات کو دہلی میں بلائی گئی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں صرف تین اراکین، اروند ساونت، راج بھاؤ واژے اور انیل دیسائی ہی حاضر ہوئے، جبکہ راجیہ سبھا رکن کے طور پر سنجے راوت میٹنگ میں موجودتھے۔ دوسری جانب باغی اراکین نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر الگ گروپ کی حیثیت اور شنڈے گروپ میں الحاق کی درخواست کی ہے۔ سنجے راوت نے اسے’’آپریشن ٹائیگر‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اراکین کو 15-15 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ظاہر ہے یہ واقعہ نہ صرف شیو سینا بلکہ بھارتی جمہوریت کے سامنے ایک بڑا سوال بن کر کھڑا ہے۔
یہ بحران کوئی اچانک نہیں ہے۔ شیو سینا کی تاریخ ٹوٹ پھوٹ سے بھری ہوئی ہے۔ بال ٹھاکرے کے دور میں ایک بڑی ٹوٹ اور اُدھو ٹھاکرے کے دور میں پارٹی کئی بار تقسیم کی مار جھیل چکی ہے۔2022 میں ایک ناتھ شندے کی بغاوت سب سے ٹوٹ کا نتیجہ تھی۔ اس نے اُدھوٹھاکرے سے وزیر اعلیٰ کا عہدہ اور انتخابی نشان چھین لیا تھا۔ اب چار سال بعد پارٹی کے 9 میں سے 6 اراکین پاررلیمنٹ کی بغاوت نے اُدھو خیمے کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لینے کی تیاری کر لی ہے۔ بی ایم سی میں بھی پارٹی تقسیم کا نتیجہ بھگت چکی ہے۔ بار بار کی ٹوٹ پھوٹ نے مہاراشٹر کی سیاست میں استحکام کی کمی کو سطح پر لا کر رکھ دیا ہے۔
جمہوریت صرف تکنیکی اعداد و شمار اور اکثریت کی سیاست کا نام نہیں ہے۔اینٹی ڈیفکشن قانون کا بنیادی مقصد سیاسی خرید و فروخت اور موقع پرستی کو روکنا ہے۔ اگر اراکین انتخابی نشان اور پارٹی کے نام پر جیت کر بعد میں پیسوں یا عہدوں کے لالچ میں آکر اپنا رخ بدلتے رہیں تو یہ عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ سنجے راوت کا الزام اگر درست ہے تو یہ نہ صرف اخلاقی زوال بلکہ آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ جمہوریت میں حکومت سازی کا عمل آئینی وقار، عوامی اعتماد اور اخلاقی ذمہ داری پر قائم ہونا چاہئے، نہ کہ صرف عددی اکثریت کے جوڑ توڑ پر۔ویسے اس بحران سے مہاراشٹر کی سیاست میں ایک سیاسی جماعت کی حکمت عملی بھی ، غیر واضح طور پر ہی سہی، نظر آ رہی ہے۔ 2022 کی طرح ا س بار بھی مخالف اتحاد کو توڑنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ تاہم، جمہوریت حامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو سیاسی پارٹیوں کو اندرونی جمہوریت مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اُدھو ٹھاکرے کو اپنے خیمے میں عدم اطمینان کے اسباب کو سمجھنا چاہئے جبکہ باغی اراکین کو بھی عوام کے سامنے واضح موقف رکھنا چاہئے۔اس معاملے میں لوک سبھا اسپیکر کا فیصلہ انتہائی اہم ہوگا۔ انہیں آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے کسی بھی دباؤ سے بالاتر رہنا چاہئے۔
ظاہر ہے، اس طرح کے واقعات بھارتی جمہوریت کے لئے چیلنج ہیں۔ جب سیاسی جماعتیں بار بار ٹوٹتی رہیں اور اراکین کی خرید و فروخت عام ہو جائے تو عوام میں سیاسی نظام کے تئیں عدم اطمینان کا بڑھنا فطری ہے۔ مہاراشٹر جیسی اہم ریاست، جو معاشی اور ثقافتی طور پر ملک کی رگ جان ہے، میں استحکام کی شدید ضرورت ہے۔ بار بار کی ایسی بغاوتیں نہ صرف متعلقہ پارٹی بلکہ وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرتی ہیں۔ چنانچہ اس وقت ضرورت ہے کہ تمام فریقین آئین کے دائرے میں رہیں۔ سیاسی مقابلہ جائز ہو سکتا ہے مگر اسے بدعنوانی اور موقع پرستی سے پاک رکھنا چاہئے۔ شیو سینا کا یہ بحران ہمیں یہ ذہن نشیں کرا رہا ہے کہ حقیقی جمہوریت ارکان کی تعداد سے زیادہ ان اقدار میں ہے جو آئین، عوامی مینڈیٹ اور اخلاقی ذمہ داری کی پاسداری کرتی ہیں۔ اگر یہ اقدار مجروح ہوئیں تو عددی اکثریت بھی مستقل استحکام نہیں لا سکتی ہیں۔
بہر حال مہاراشٹرکے عوام اور قومی قیادت کو اس صورتحال سے سبق لینا چاہئے۔ سیاسی پارٹیوں کو اندرونی اصلاحات، شفافیت اور کارکنوں کے ساتھ بہتر تعلقات پر توجہ دینا بے حد ضروری ہے تاکہ ایسے بحران بار بار نہ پیدا ہوں۔ اس حقیقت کو ہمیشہ دھیان میں رکھنا چاہئےکہ جمہوریت صرف حکومت بنانے کا کھیل نہیں بلکہ عوام کی خدمت، آئینی وقار اور اخلاقی سیاست کا نام ہے۔ جمہوری سیاست میں اس وقار کی حفاظت ہی طویل مدتی استحکام کی ضمانت دے سکتی ہے۔
******

