تاثیر 17 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ: 17؍اگست2026۔ خدا بخش لائبریری میں15 اگست 2026 کویوم آزادی کے پر مسرت موقعے پر یوم آزادی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ پروفیسر محمد زاہد الحق، ڈائرکٹر، خدا بخش لائبریری نے پرچم کشائی کی اور اپنے خطاب میں فرمایا کہ 15 اگست محض ایک تاریخ نہیں ،بلکہ 15 اگست وہ امانت ہے جو ہمارے اسلاف نے اپنی لاکھوںجانیں دے کر آزادی کی نعمت ہمارے حوالے کی ۔ 15 اگست وہ تشخص ہے جو ہمیںساری دنیا سے جدا مقام عطا کرتاہے۔15 اگست وہ سحر ہے جس کی تلاش میں کئی ستارے ڈوب گئے۔ 15 اگست وہ پیغام ہے جسے ہم تک پہنچانے کے لیے نہ جانے کتنے قاصد راستوں کی دھول ہو گئے۔ کتنے دل ملول ہو گئے اور کتنے اشک بے مول ہو گئے۔ جو آزادی ہمیں اتنی قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم دیش کی ترقی اور امن و سکون قائم رکھنے کے لیے کچھ ایسے کام کرجائیں، جن سے تحریک آزادی کے متوالوں کی روح کو شانتی ملے۔خدا بخش لائبریری نے آزادی کے اس پیغام کو ہمیشہ پیش نظر رکھا اور اپنی طباعت و اشاعت اور لکچر سیمیناروں کے توسط سے اس پیغام کو عام لوگوں تک پہنچانے میںنمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس موقعے پر ہم یہ عہد کریںکہ اپنے دیش کی ترقی کے لیے ایک ایسا سازگار ماحول تیار کرنا ہے جہاں کسی قسم کے بھید بھاو کی گنجائش نہ ہو۔اس نہج پر خدا بخش لائبریری شروع سے کام کرتی آئی ہے۔
یوم آزادی تقریب کی مناسبت سے 14اگست کو تحریک آزادی پر کتابوں کی نمائش لگائی گئی-اس دور کو جاننے اور سمجھنے کے لیے ان کتابوں کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ اگر اپنے علم میں پختگی اور شعور لانا ہے تو کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔یہ کتابیں مقابلہ جاتی امتحانات میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
اسی موقعے پر 17؍اگست2026 کو تحریک آزادی اور ہندستانی ادب کے موضوع پر ایک لکچر کا انعقاد کیا گیا۔ پروفیسر محمد زاہد الحق نے اپنے استقبالیہ کلمات میں فرمایا کہ تحریک آزادی کے تین پڑاو ہیں1757,1857,، 1947۔ان تینوں پڑاو نے ہندستان کی تاریخ بدل دی۔ تحریک آزادی میں ہر طبقے کے لوگوں نے اپنا رول ادا کیا۔ شعرا اور ادبا کا کردار ایک مسلح ہتھیار جیسا تھا۔ انھوں نے اپنی تخلیقات اور شاعری کے ذریعے اہل وطن میں دیش بھکتی، اتحاد اور عزت نفس کا جوش بھردیا جس سے برٹش حکومت کی بنیادیں ہل گئیں۔
پروفیسر ترون کمار، سابق پرنسپل، پٹنہ کالج، پٹنہ اس پروگرام کے خصوصی مہمان اور مقرر تھے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں تفصیل سے تحریک آزادی میں ہندی اور اردو کے ادیبوں اور شاعروں کے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ تحریک آزادی کے لیے چھوٹے موٹے سنگھرش 1757سے ہی شروع ہو گئے تھے۔سبھی دلوں کے تار جوڑنے کے لیے ہندستانی ادبا کا بڑا رول رہا ہے۔ ہندستان کی کوئی بھی زبان ہو، اس کی سوچ ہمیشہ ایک رہی۔ ہندستانی شاعری میں تحریک آزادی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ نرالا کا گیت آزادی کامینوفسٹو ہے۔ یہ گیت چھٹھ کے موقعے پر بھی گایا جاتا ہے۔ بہادر شاہ ظفر دیش کو محبوبہ کی طرح پیار کرتے تھے۔ گنیش شنکر ودیارتھی اور بہادر شاہ ظفر کی قربانی کو بھلایا نہیں جا سکتا۔انگریزوں نے ہندو مسلم میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن ہندستانی ادیبوں نے ان کی اس سازش کو ناکام بنادیا۔حالی نے قومی اتحاد پر زور دیا، اکبر الہ آبادی نے جگانے کا کام کیا، وہ ایشیائی اتحاد کے حامی تھے۔ اقبال نے سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا لکھا، بنسی دھر شکل نے خونی پرچہ نامی گیت لکھا۔ دیش بھکتی آخری لمحے تک باقی رہنی چاہئیے۔ پروفیسر صاحب کے خطاب کے بعد شکریے کی رسم ادا کی گئی اور پھر جلسے کا اختتام ہوا۔

