تاثیر 31 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
کولکاتا، 31 اگست: بھارت اور روس کے درمیان مضبوط تال میل، مکالمے، اعتماد، حساسیت اور باہمی احترام کے ذریعے تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ کولکاتا میں مالدیپ جمہوریہ کے اعزازی قونصل رام کرشن جیسوال نے پیر کو منعقدہ بھارت۔روس دوطرفہ کانفرنس ’’سمپرک‘‘ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
رام کرشن جیسوال نے کہا کہ کسی بھی کامیاب شراکت داری کی بنیاد بامعنی مکالمے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت پر قائم ہوتی ہے۔ تعلقات چاہے دو بڑے ممالک کے درمیان ہوں یا چھوٹے ممالک کے درمیان، مضبوط شراکت داری کا اثر صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ معاشرے، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔بھارت۔روس تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے اعتماد، باہمی سمجھ اور احترام پر مبنی دوستی قائم رہی ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنی صلاحیتوں اور مہارت کو مشترکہ مقاصد کے لیے بروئے کار لائیں تو اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے لیے وسیع پیمانے پر ترقی اور خوشحالی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب دو بڑے ممالک کسی مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کرتے ہیں تو اس کے نتائج ان کامیابیوں سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں جو وہ الگ الگ حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسی شراکت داری ترقی اور خوشحالی کے لیے محرک کا کردار ادا کر سکتی ہے۔جیسوال نے کامیاب تعلقات کے لیے مکالمے کو بنیادی حیثیت دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی نے جغرافیائی فاصلے کم کر دیے ہیں اور دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود شخص سے فوری رابطہ ممکن ہو گیا ہے، لیکن حقیقی مکالمہ صرف رابطے تک محدود نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ایک دوسرے کی بات سننا، مختلف نقطہ نظر کو سمجھنا اور کھلے ذہن کے ساتھ گفتگو کرنا ضروری ہے۔انہوں نے شراکت داری میں اعتماد اور خود اعتمادی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق ممالک، اداروں اور افراد کے درمیان یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ شراکت دار مشکل حالات میں بھی ایمانداری اور مثبت جذبے کے ساتھ ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔

