تاثیر 03 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ(فضاامام):-المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام سبھاش چوک واقع ٹرسٹ کے دفتر، حکیم دمڑی منزل، ڈاکٹر آفتاب حسین کمپلیکس، دربھنگہ میں معروف مصنف ڈاکٹر ایوب راعین کی کتاب ’’دلت مسلم رہنما‘‘ کی رسمِ اجرا کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت معروف افسانہ نگار ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے کی، جبکہ نظامت ڈاکٹر منظر سلیمان نے انجام دی۔ تقریب کا اہتمام اور نگرانی ٹرسٹ کے سکریٹری ڈاکٹر منصور خوشتر نے کی۔ اس موقع پر رتن کمار شری واستو، ڈاکٹر عطا عابدی اور چندریش جی بطور مہمانِ خصوصی موجود تھے۔تقریب میں کتاب کی رسمِ اجرا کے بعد مقررین نے کہا کہ ’’دلت مسلم رہنما‘‘ محض ایک کتاب نہیں بلکہ سماج کے حاشیے پر موجود طبقات کی تاریخ، جدوجہد، سماجی صورتِ حال اور رہنماؤں کو سمجھنے کے لیے ایک اہم دستاویز ہے۔ مقررین نے ڈاکٹر ایوب راعین کی تحقیقی کاوش اور زمینی حقائق سے وابستگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متعلقہ افراد سے ملاقات، گفتگو، ان کے تجربات اور دستیاب معلومات کو یکجا کرکے اس کتاب کو ترتیب دیا ہے۔ہندی سماہار منچ کے سکریٹری امیتابھ کمار سنہا نے کہا کہ مصنف سے ان کے دیرینہ اور گہرے مراسم ہیں۔ انہوں نے سماجی و ادبی سطح پر سرگرم کردار ادا کرتے ہوئے سماہار منچ کے ذریعے اردو کے متعدد شعرا کو بھی ایک دوسرے سے جوڑنے کا کام کیا ہے۔رتن کمار شری واستو نے کہا کہ ہندوستانی معاشرے میں ذات پات کے اثرات بہت گہرے رہے ہیں۔ انہوں نے پریم چند کی کہانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ادب میں دبے کچلے اور محروم طبقات کی زندگی اور مسائل کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ بعد ازاں ’’ہنس‘‘ کے ذریعے راجندر یادو نے بھی دلت ادب کو مناسب مقام دلانے کی کوشش کی۔افلاک منظر نے کہا کہ آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد ہندوستانی معاشرے میں مختلف سطحوں پر تقسیم اور ذات پات کے اثرات موجود رہے ہیں۔ انہوں نے ماضی کے سماجی حالات اور جاگیردارانہ نظام کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں سماجی امتیاز کی کئی شکلیں رائج تھیں۔انور آفاقی نے سماجی نابرابری اور پسماندگی کے حوالے سے کہا کہ مساوات کے قیام کے لیے تعلیم سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے محروم طبقات کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’دلت مسلم رہنما‘‘ ہمارے معاشرے کی حقیقی صورتِ حال کی عکاسی کرنے والی کتاب ہے۔چندریش جی، معروف میتھلی ادیب، نے کہا کہ کتاب میں دلت مسلم معاشرے کے مسائل کو ذات، سماج اور معیشت کے مختلف پہلوؤں سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر ایوب راعین کو ایک ’’کھوجی ادیب‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریر زندگی کی حقیقتوں سے جڑی ہوئی ہے اور وہ اپنی قلمی کاوشوں کے ذریعے معاشرے کو بیدار کرنے کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کتاب کی اشاعت پر مصنف کو مبارک باد پیش کی۔ڈاکٹر احسان عالم نے ڈاکٹر ایوب راعین کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک اہم اور قابلِ قدر کام انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی کتابیں معاشرے کے ان پہلوؤں کو سامنے لاتی ہیں جن پر عام طور پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ڈاکٹر عطا عابدی نے کہا کہ ڈاکٹر ایوب راعین کی تحقیق کے ذرائع براہِ راست اور اولین نوعیت کے ہیں۔ وہ موضوع کا انتخاب کرنے کے بعد اس پر بھرپور محنت کرتے ہیں، متعلقہ افراد سے ملاقات کرتے ہیں، ان کی آرا اور تجربات کو سمجھتے ہیں اور اس کے بعد قلم اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کتاب محققین کے لیے مفید ثابت ہوگی اور انہیں نئے موضوعات پر تحقیق کے لیے بھی متوجہ کرے گی۔لال محمد، جو ڈاکٹر ایوب راعین کے منجھلے بھائی ہیں، نے مصنف کی جدوجہد اور علمی و ادبی سرگرمیوں سے متعلق مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ نثار احمد نے کہا کہ ان کی ڈاکٹر ایوب راعین سے ملاقاتیں رہی ہیں اور وہ ان کی ادبی و تحقیقی سرگرمیوں سے واقف ہیں۔ انہوں نے کتاب میں موجود معلومات اور اعداد و شمار کو تحقیق کرنے والوں کے لیے مفید قرار دیا۔صوبیدار نند کشور ساہو نے اپنی نظم کے ذریعے باہمی اتحاد، انسانیت اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ایوب راعین نے اپنے ادبی سفر، کتاب کے پس منظر اور ’’دلت مسلم رہنما‘‘ کی تیاری کے مراحل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کتاب کی تیاری کے دوران مختلف افراد سے ملاقات، گفتگو، تجربات کے حصول اور دستیاب معلومات کے مطالعے سے انہیں کافی مواد حاصل ہوا۔ انہوں نے کتاب کے مقصد اور اپنی قلمی جدوجہد سے متعلق بھی اظہارِ خیال کیا۔تقریب کے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے کہا کہ ’’ڈاکٹر ایوب کی یہ کتاب نہ صرف ملک کے محروم اور حاشیے پر کھڑے معاشروں کے لیے بلکہ ہر اس شخص کے لیے بھی نہایت اہم ہے جو مساوات اور جمہوریت کا حامی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ مصنف نے وسائل کی کمی کی پروا کیے بغیر دبے کچلے معاشرے کی قربانیوں کو سامنے لانے کی جرأت مندانہ کوشش کی ہے۔ مصنف اپنی کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں اور کن پہلوؤں پر مزید کام کی ضرورت ہے، اس کا اندازہ قارئین اور محققین خود کرسکتے ہیں۔تقریب میں ادیبوں، دانش وروں، سماجی کارکنوں، اساتذہ اور مختلف شعبوں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ تمام مقررین نے ڈاکٹر ایوب راعین کو کتاب کی اشاعت اور رسمِ اجرا پر مبارک باد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ ’’دلت مسلم رہنما‘‘ سماجی تاریخ، دلت مسلم مسائل اور تحقیقی مطالعے کے میدان میں ایک مفید حوالہ جاتی کتاب کی حیثیت حاصل کرے گی۔آخر میں سکریٹری ڈاکٹر منصور خوشتر نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا.

