تاثیر 11 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
اتر پردیش کے سہارن پور ضلع کلکٹریٹ میں واقع 115 سال پرانی جامع مسجد کو 5 ستمبر کی رات انتظامیہ نے بلڈوزر سے گرا دیا۔ یہ کارروائی نچلی عدالت کے فیصلے کے نام پر کی گئی، مگر اس کے پیچھے قانونی عمل اور آئینی اقدار کے حوالے سے کئی سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔کل بروز جمعہ الہ آباد ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران جسٹس روہت رنجن اگروال نے ریاستی حکومت سے جوابی حلف نامہ طلب کیا اور مسجد کمیٹی پر عائد 6.41 کروڑ روپے کے جرمانے کی وصولی پر اگلی سماعت تک عبوری پابندی لگا دی۔ اگلی تاریخ 12 اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔ کورٹ کی یہ مداخلت واقعی امید کی کرن ہے، مگر اصل مسئلہ اس سے کہیںزیادہ گہرا ہے۔
مسجد کمیٹی کا موقف ہے کہ یہ عمارت وقف کی پرانی جائیداد ہے اور ایک صدی سے زائد عرصے سے عبادت گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔ انتظامیہ نے اسے سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ قرار دیا اور بغیر مناسب نوٹس کے رات کے آخری پہر میں بلڈوز کر دیا۔ مسجد کمیٹی کی جانب سے ہائی کورٹ میں اپیل کی عرضی لگائی گئی ہے، اس میں پلیسز آف ورشپ (اسپیشل پروویژن) ایکٹ 1991 کی خلاف ورزی کا واضح الزام لگایا گیا ہے۔ یہ قانون 15 اگست، 1947 کو موجود تمام مذہبی مقامات کے کردار کو جوں کا توں محفوظ رکھنے کی گارنٹی دیتا ہے۔ اس کے تحت کسی بھی عبادت گاہ کو دوسری شکل میں تبدیل یا مسمار نہیں کیا جا سکتاہے۔ سہارن پور کی یہ مسجد اگر واقعی آزادی سے پہلے موجود تھی تو اس کو مسمار کرنے کی کارروائی اس قانون کی روح کے سراسر منافی ہے۔
دوسری جانب ہائی کورٹ نے کل جو حکم دیا وہ در اصل اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہو ہےا۔ عدالت نے نہ صرف حکومت سے جواب مانگا ہے بلکہ جرمانے کی وصولی روک کر اس بات کا اشارہ دیا کہ نچلی عدالتوں کے فیصلوں اور انتظامی کارروائیوں کو بھی آئینی جانچ سے گزرنا ہوگا۔ مسجد کمیٹی نے پبلک پریمائسز ایکٹ کے تحت کارروائی میں ملکیت ثابت نہ ہونے، گواہان کی مکمل گواہی نہ لینے اور فوری فیصلے جیسے عمل کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ نکات صرف تکنیکی نہیں بلکہ انصاف کے بنیادی اصولوں سے جڑے ہیں۔
ظاہر ہے، جامع مسجد کی مسماری کوکسی منفرد واقعے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں ملک بھر میں مساجد، مدرسے، درگاہیں اور قبرستانوں کے نام پر مذہبی منافرت کی سیاست کا جس طرح سے طوفان کھڑا کیا جا رہا ہے، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ہر نئی کارروائی کو’’غیر قانونی قبضہ‘‘ یا ’’سرکاری زمین‘‘ کا جواز دے کر پیش کیا جاتا ہے، مگر اصل میں یہ آئین کی روح کے خلاف ہے۔ بھارتی آئین تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ جب ایک کے بعد ایک مسلم عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ پیغام جاتا ہے کہ قانون سب کے لئے برابر نہیں ہے۔ سہارن پور میں جامع مسجد کی مسماری کی کارروائی کے بعد علاقے میں شدید برہمی، غیر معمولی سیکورٹی تعیناتی اور سیاسی لیڈروں کی نظر بندی اس پیغام کی تصدیق کرتی ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایسے واقعات کے خلاف تحریک کا اعلان کیا ہے اور قانونی و پرامن جدوجہد کی بات کی ہے۔ بورڈ کا موقف ہے کہ عبادت گاہوں پر حملے نہ صرف مذہبی آزادی بلکہ ملک کے سیکولر تشخص پر حملہ ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے وفد کا سہارن پور جانا اور مقامی رہنماؤں کی تشویش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ معاملہ صرف ایک عمارت کا نہیں بلکہ آئینی اقدار کے تحفظ کا ہے۔
بلڈوزر آئین سے بڑا نہیں ہو سکتا ہے، خواہ وہ بلڈوزر کسی کے اشارے پر کام کرے۔ اگر کوئی عمارت واقعی غیر قانونی ہے تو مکمل شفاف عدالتی عمل کے بعد ہی کارروائی ہونی چاہئے۔ حکومت اور انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ ہائی کورٹ کے سامنے مکمل حقائق پیش کریں اور پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 کے تحفظات کا احترام کریں۔
سہارن پور کی مسجد کی شہادت ایک تنبیہ ہے کہ مذہبی منافرت کی سیاست ملک کو کہاں لے جا رہی ہے۔ آئین کی روح کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ عدالتیں، انتظامیہ اور سیاسی قیادت سب مل کر قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔ ورنہ ایک کے بعد ایک عبادت گاہوں کی مسماری نہ صرف اقلیتوں میں عدم تحفظ بڑھائے گی بلکہ بھارت کے کثیر المذاہب تشخص کو بھی نقصان پہنچائے گی۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ سچ سامنے آئے اور ہر عبادت گاہ کو آئینی تحفظ ملے۔
*******

