تاثیر16 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 16 اکتوبر: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے فہرست میں شامل کمپنیوں کے شیئروں میں مبینہ ہیرا پھیری کے معاملے میں جمعہ کے روز چھ شہروں کے 29 مقامات پر چھاپہ ماری کی۔ تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ دو کمپنیوں کے شیئر خریدنے کے لیے واٹس ایپ گروپس کے ذریعے سرمایہ کاروں کو مسلسل پیغامات بھیجے گئے۔ اس کے بعد دونوں کمپنیوں کے شیئروں کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ آئی، جس سے ایک لاکھ سے زائد چھوٹے سرمایہ کاروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ ای ڈی نے کارروائی کے دوران لین دین کے ریکارڈ، ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور جائیداد سے متعلق کاغذات ضبط کیے ہیں۔
ای ڈی کے ممبئی ریجنل آفس-1 نے انسدادِ منی لانڈرنگ قانون(پی ایم ایل اے)، 2002 کے تحت ممبئی، ناسک، احمد آباد، گاندھی نگر، سورت اور بھاو نگر میں یہ کارروائی کی۔ چھاپے آر ایم ڈرپ اینڈ اسپرنکلرس سسٹمز لمیٹڈ اور آر اینڈ بی ڈینمس لمیٹڈ کے شیئروں میں مبینہ ہیرا پھیری کی تحقیقات کے سلسلے میں مارے گئے۔تلاشی کے دائرے میں دونوں کمپنیوں کے دفاتر، ان کے پروموٹرز کی رہائش گاہیں، کم قیمت پر شیئر حاصل کرنے والے افراد کے ٹھکانے، شیئر بروکریج اور مالیاتی کمپنیوں کے دفاتر اور مبینہ طور پر تشہیر کے لیے واٹس ایپ گروپس چلانے والے افراد کے احاطے شامل تھے۔
ای ڈی کی تحقیقات کے مطابق، اپریل 2023 سے مارچ 2024 کے درمیان دونوں کمپنیوں نے منتخب افراد اور اداروں کو 3.5 کروڑ سے زیادہ شیئر اور کنورٹیبل وارنٹ جاری کیے۔ ان شیئروں کی خریداری کے لیے ادا کی گئی رقم کا بڑا حصہ باہم منسلک بعض افراد، کمپنیوں اور قرض دہندگان کے گروپ سے آیا تھا۔اس کے بعد کے مہینوں میں دونوں کمپنیوں کے شیئروں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا، جبکہ زیادہ تر شیئر چند منتخب افراد کے پاس ہی رہے۔

