تاثیر2 نومبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بھوپال، 2 نومبر: کسی بچے کی آنکھوں میں بہتر مستقبل کے خواب ہوں، لیکن خاندان کی مالی حالت اسے اچھے اسکول میں تعلیم دلانے کی اجازت نہ دے تو اکثر اس کے خواب حالات کے آگے دم توڑ دیتے ہیں۔ تاہم مدھیہ پردیش میں حقِ تعلیم قانون (آر ٹی ای) کے تحت چلائی جانے والی فیس کی ادائیگی کی اسکیم اس رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے اب تک 16.85 لاکھ سے زیادہ طلبہ کو فائدہ پہنچایا جا چکا ہے۔
اس اسکیم کا مقصد معاشی طور پر کمزور اور محروم طبقوں کے بچوں کو بھی نجی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے، تاکہ فیس کی پریشانی ان کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ حکومت کی اس سہولت کے تحت اہل بچوں کو نجی اسکولوں میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک مفت تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔
مدھیہ پردیش میں سال 2011 سے اب تک آر ٹی ای کے تحت 16.85 لاکھ سے زیادہ طلبہ کی فیس کی ادائیگی کے لیے 3600 کروڑ روپے سے زائد کی رقم جاری کی جا چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ اسکیم طویل عرصے سے معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے بچوں کو نجی اسکولوں میں تعلیم کا موقع فراہم کرنے کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔
مقررہ ضابطوں کے مطابق بچوں کی فیس کی رقم براہ راست متعلقہ اسکولوں کو ادا کی جاتی ہے۔ اس سے خاندانوں کو اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے میں مالی مدد ملتی ہے اور ان کے سامنے آگے بڑھنے کے نئے راستے کھلتے ہیں۔ تعلیم محض اسکول میں داخلے تک محدود نہیں، بلکہ یہ بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور مستقبل کے بہتر مواقع تک پہنچنے کی بنیاد بھی بنتی ہے۔اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے 11 اکتوبر 2026 کو نرسنگھ پور میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران تعلیمی سیشن 2024-25 کے لیے فیس کی ادائیگی کے طور پر 502 کروڑ روپے جاری کیے۔ اس سے ریاست کے 20,456 غیر سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم 8.19 لاکھ سے زیادہ طلبہ کو فائدہ پہنچا۔

