تاثیر 19 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مظفرپور ( نزہت جہاں) ضلع نے ترقی کی ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے بیشتر اشاریوں میں 100 فیصد ہدف حاصل کر لیا ہے۔ آکانکشی ضلع پروگرام (ADP) کے تحت ضلع کی بہترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے نیتی آیوگ نے اب تک تقریباً 33 کروڑ روپے کی حوصلہ افزائی رقم فراہم کی ہے، جس سے ضلع میں ہمہ جہت ترقی کو نئی رفتار ملی ہے۔ حکومتِ ہند کے ایڈیشنل سیکریٹری و مرکزی ضلع انچارج سنیل کمار کی صدارت میں کلکٹریٹ کے اجلاس ہال میں جائزہ میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ سے قبل انہوں نے ہرپور بکھری، مدھوبنی اور خبڑا پنچایتوں کا دورہ کر کے سولر پاور آبپاشی سمیت مختلف سرکاری منصوبوں کے زمینی نفاذ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے منصوبوں کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے افسران کی سرگرمی اور فرض شناسی کی تعریف کی۔ جائزہ اجلاس میں ضلع مجسٹریٹ سبرت کمار سین نے پریزنٹیشن کے ذریعے آکانکشی ضلع و بلاک پروگراموں کی تازہ صورتحال پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیم، صحت، غذائیت، زراعت، مالی شمولیت اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں مربوط کوششوں کے نتیجے میں ضلع نے مسلسل قومی سطح پر اپنی شناخت مضبوط کی ہے۔
سال 2019-20 میں تعلیم کے شعبے میں اول مقام کے ساتھ 3 کروڑ روپے، 2020-21 میں زراعت و آبی وسائل میں اول مقام پر 3 کروڑ روپے، اور 2021-22 میں مجموعی کارکردگی میں دوسرا مقام حاصل کر کے 2 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔
اس کے بعد 2022-23 اور 2023-24 میں صحت و غذائیت اور “نرچر اینڈ کیئر” زمرے میں بہترین کارکردگی کے لیے 3-3 کروڑ روپے دیے گئے۔
سال 2024-25 میں صحت و غذائیت میں دوبارہ اول مقام کے ساتھ 3 کروڑ روپے اور 2025-26 میں زراعت و آبی وسائل میں اول مقام کے لیے 3 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ اس کے علاوہ اسکل ڈیولپمنٹ و مالی شمولیت میں تیسرا مقام حاصل کرنے پر 1 کروڑ اور مجموعی کارکردگی میں اول مقام کے لیے 3 کروڑ روپے کی اضافی رقم بھی ملی۔
حوصلہ افزائی رقم کو تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے استعمال کیا گیا۔ “پرگتی پاٹھشالا” اسکیم کے تحت 32 اسکولوں کو ماڈل اسکول بنایا گیا، جبکہ 16 کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ میں لائبریریاں قائم کی گئیں۔ اسی طرح 90 اسکولوں میں اسمارٹ کلاس روم اور 45 پنچایت بھونوں میں کمیونٹی لرننگ سینٹر قائم کر کے ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دیا گیا۔
زراعت کے شعبے میں سولر توانائی پر مبنی آبپاشی نظام نافذ کیا گیا، جس سے کسانوں کو کم خرچ اور پائیدار سہولت حاصل ہوئی۔ اس سے پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری آئی ہے۔نوجوانوں کے لیے تکنیکی مواقع

