امام حسینؓ کے نام پر ماتم یا تماشا؟ آخر ہم کس سمت جا رہے ہیں؟

تاثیر 28 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مظفرپور: (نزہت جہاں)
 اندھی عقیدت، بے جا طرفداری، بدگمانی اور بے اعتدالی انسان کو عدل و انصاف سے دور کر دیتی ہے۔ جب مذہبی رسومات میں صبر، قربانی اور انصاف کا پیغام پسِ پشت چلا جائے اور اس کی جگہ دکھاوا، ناچ گانا اور دیگر غیر مناسب حرکات لے لیں، تو سوال اٹھنا فطری ہے۔ ہر سال محرم کے موقع پر کچھ ایسی روایات سامنے آتی ہیں جن کا حضرت امام حسینؓ کی تعلیمات اور عظیم قربانی سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ اس سال بھی تعزیہ جلوس میں ایک ڈانسر کی موجودگی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اگرچہ اس ویڈیو کی جگہ کی تصدیق نہیں ہو سکی، لیکن اس نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بچوں کی تعلیم کے لیے وسائل نہیں ہوتے، مگر دکھاوے اور غیر ضروری اخراجات میں کوئی کمی نہیں رکھی جاتی۔ اگر کہیں حضرت امام حسینؓ کے نام پر چندہ جمع کرکے کوئی شراب نوشی کرے یا دیگر غلط کاموں میں ملوث ہو، تو یہ سب سے پہلے اسی عظیم قربانی کی توہین ہے، جس کے نام پر یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔
یہ سوال کسی مذہب یا مسلک سے نہیں، بلکہ ان لوگوں سے ہے جو مذہب کے نام پر اس کی پاکیزگی، اصل روح اور حقیقی پیغام کو داغدار کر رہے ہیں۔