پیپر لیک کے واقعات نے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا ہے: ڈاکٹر جمال حسن

تاثیر 28 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

دربھنگہ (فضا امام): دربھنگہ ضلع کانگریس کمیٹی (اربن) کے دفتر میں آج ضلع صدر ڈاکٹر جمال حسن نے طلبہ سے متعلق مختلف مسائل پر “طلبہ کی گونج” کے عنوان سے ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور میڈیا سے خطاب کیا۔ڈاکٹر جمال حسن نے کہا کہ ملک کا موجودہ تعلیمی نظام طلبہ کے انتخاب سے زیادہ انہیں ناکام قرار دینے والا نظام بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں طلبہ میں سے صرف چند ہی انتظامی خدمات، طب اور دیگر باوقار شعبوں میں جگہ حاصل کر پاتے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں نوجوان بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ تعلیم مسلسل مہنگی ہوتی جا رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ پر پڑ رہا ہے۔ اسکول، ٹیوشن، کوچنگ، ہاسٹل اور مسابقتی امتحانات کی تیاری پر اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام کو زیادہ آسان، سستا اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر حسن نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے دور میں پیپر لیک کے واقعات نے طلبہ کے مستقبل کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کے مطابق مسابقتی امتحانات کی ساکھ مسلسل کمزور ہوئی ہے۔ روزگار کے مسئلے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ نوجوان آج بھی بے روزگار ہیں اور انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں کے اہل نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ میں بڑھتی ہوئی مایوسی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کی خودکشی کے واقعات میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو تعلیمی نظام اور روزگار کے بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ڈاکٹر جمال حسن نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر استعفیٰ دیں، مسابقتی امتحانات میں شفاف اور جوابدہ نظام نافذ کیا جائے، کوچنگ انڈسٹری کو ضابطے میں لایا جائے اور سرکاری تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔موجودہ NEET امتحان سے متعلق تنازع پر طنزیہ انداز میں انہوں نے کہا، “اگر کسی بچے کو دست لگے ہوں تو بار بار ڈائپر بدلنے سے بیماری ختم نہیں ہوتی، اصل مسئلے کی جڑ پر کارروائی کرنا ضروری ہے، تبھی اصلاح ممکن ہے۔”پریس کانفرنس میں تنظیم سازی مہم کے انچارج رجنی کانت پاٹھک نے بھی طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے تعلیمی نظام میں وسیع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس طلبہ کے مستقبل اور حقِ تعلیم کی لڑائی سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک پوری مضبوطی کے ساتھ لڑتی رہے گی اور طلبہ کے مفادات پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔اس موقع پر پرنس پرویز، حسمت علی انصاری، راگھویندر کنور، بھاگیرتھی دیوی، احسان صدیقی، محمد وسیم احمد، نسیم حیدر، حیات گھاٹ بلاک صدر شاداب عتیقی، مکیش کمار سمیت متعدد کانگریس کارکنان اور عہدیداران موجود تھے۔