مغربی بنگال اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹ پیش، ریاست پر 8 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض

تاثیر 25 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

کولکاتا، 25 جولائی: مغربی بنگال کے وزیر خزانہ سوپن داس گپتا نے ہفتہ کو ریاستی اسمبلی میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ پیش کی۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلے کچھ برسوں سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر پچھلی حکومت (ممتا بنرجی کی) نے ایوان میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش نہیں کیں، جو کہ ایک سنگین ’’آئینی کوتاہی‘‘ تھی۔
ایوان میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے، انہوں نے کہا،’’ماضی میں ہونے والی اس آئینی غفلت کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ہم آج ایوان میں سی اے جی رپورٹ کی 28 جلدیں رکھ رہے ہیں۔‘‘
ریاست کے 8 لاکھ کروڑ روپے کے قرض پر سوال اٹھے
وزیر خزانہ داس گپتا نے قانون ساز اسمبلی کے اراکین پر زور دیا کہ وہ ان رپورٹس کا گہرائی سے مطالعہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان دستاویزات کے تجزیہ سے پتہ چل جائے گا کہ آخر کس طرح ریاست کے اوپر 8 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض کا بھاری بوجھ چڑھ گیا۔انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت کا یہ اخلاقی اور آئینی فرض ہے کہ وہ حکومت کی ماضی کی غلطیوں اور مالی بے ضابطگیوں کو شفاف طریقے سے عوام کے سامنے پیش کرے۔