تاثیر 26 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
جموں، 26 ستمبر: پنن کشمیر نے 1990 کی دہائی کے آغاز میں کشمیری ہندوؤں کی نقل مکانی کو برادری کی ساتویں جلاوطنی قرار دیتے ہوئے وادی کشمیر میں ایک مستقل سیاسی اور آئینی حل کا مطالبہ کیا ہے۔ پنن کشمیر نے کہا ہے کہ بار بار کی نقل مکانی، جائیدادوں کے نقصان اور ثقافتی انتشار کے پیش نظر کشمیری پنڈتوں کے لیے وادی میں الگ، محفوظ اور آئینی طور پر تحفظ یافتہ ہوم لینڈ ضروری ہے۔
تنظیم کے کنوینر اگنی شیکھر نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے مسئلے کو محض بازآبادکاری اور واپسی تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق نقل مکانی سے زندگی اور جائیداد کے نقصان کے علاوہ برادری کے ثقافتی تسلسل کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پنن کشمیر کے صدر ٹیٹو گنجو نے کہا کہ تنظیم کا بنیادی سیاسی مطالبہ وادی کشمیر میں پنن کشمیر کے نام سے ایک الگ، محفوظ اور آئینی طور پر تحفظ یافتہ ہوم لینڈ کا قیام ہے۔

