کلکتہ ہائی کورٹ کا ابھیشیک بنرجی کی عرضی پر فوری سماعت سے انکار، تفتیش سے متعلق معلومات میڈیا میں لیک ہونے کا معاملہ

تاثیر15 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

کولکاتا، 15 اکتوبر: ترنمول کانگریس کے رکنِ پارلیمان ابھیشیک بنرجی کو کلکتہ ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے ان کے خلاف جاری تفتیش سے متعلق خفیہ معلومات میڈیا میں شائع کیے جانے کے خلاف دائر عرضی پر فوری سماعت کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
جمعرات کو ابھیشیک کے وکیل ایان بھٹاچاریہ نے عدالت کی توجہ اس معاملے کی جانب مبذول کراتے ہوئے جلد سماعت کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے اس معاملے کی سماعت کے لیے دسمبر کا وقت مقرر کیا ہے، لیکن اس دوران میڈیا میں تقریباً ہر روز ان کے موکل کے خلاف جاری تفتیش سے متعلق خبریں شائع کی جا رہی ہیں۔ وکیل نے درخواست کی کہ اگر فی الحال سماعت ممکن نہیں ہے تو معاملے کو تعطیلاتی بنچ (ویکیشن بنچ) کے سپرد کر دیا جائے۔
جسٹس بھٹاچاریہ نے ابھیشیک بنرجی کے وکیل کی اس درخواست کو یکسر مسترد کر دیا۔ جج نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تعطیلاتی بنچ کوئی ’ڈمپنگ گراؤنڈ‘ نہیں ہے، جہاں تمام زیرِ التوا مقدمات بھیج دیے جائیں۔ عدالت نے یاد دلایا کہ اس معاملے پر اس سے پہلے جسٹس کرشنا راؤ کی بنچ کے سامنے بھی سماعت ہو چکی ہے اور اس کے بعد یہ معاملہ ڈویڑن بنچ سے ہوتا ہوا یہاں پہنچا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں اس معاملے کی فوری سماعت کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ڈائمنڈ ہاربر کے رکنِ پارلیمان ابھیشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں الزام لگایا ہے کہ تفتیش کے دوران ان سے پوچھے گئے سوالات اور ان کی ذاتی معلومات جان بوجھ کر میڈیا میں افشا کی جا رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ابھیشیک کو مختلف الزامات کے سلسلے میں پولیس اور سی آئی ڈی کی تفتیش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں نے انہیں کئی مرتبہ طلب کرکے گھنٹوں طویل پوچھ گچھ کی ہے۔