مذہبی جذبات مجروح کرنے کا معاملہ: ہائی کورٹ سے مہوا موئترا کی عبوری راحت میں 29 جنوری تک توسیع، پولیس تحفظ بھی بحال

تاثیر1 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

لکاتا، یکم اکتوبر :کلکتہ ہائی کورٹ نے ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کو ان کے خلاف مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں دائر مقدمے میں دی گئی عبوری راحت (گرفتاری سے استثنی) میں 29 جنوری تک توسیع کردی ہے۔ جسٹس سوگتا بھٹاچاریہ کی بنچ نے جمعرات کو یہ حکم منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ ایم پی کو گرفتاری سے تحفظ دیا گیا ہے، لیکن معاملے کی پولیس تفتیش جاری رہے گی اور مہوا کو تفتیشی عمل میں مکمل تعاون کرنا ہوگا۔ عدالت نے معاملے کی مزید سماعت کے لیے 13 جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے۔اس کے ساتھ ہی ان کے پارلیمانی حلقے میں حالیہ انڈے پھینکنے کے معاملے میں عدالت نے 30 نومبر تک ان کے حفاظتی انتظامات بحال کرنے کی سخت ہدایات بھی دی ہیں۔مذہبی جذبات سے متعلق تمام تنازعات ریاست میں حالیہ اسمبلی انتخابات سے شروع ہوتے ہیں۔ پولیس میں درج شکایت کے مطابق 15 جون کو اپنے آفیشیل فیس بک ہینڈل سے لائیو براڈکاسٹ کے دوران ایم پی نے کچھ ایسے ریمارکس دیے تھے جنہیں مذہبی طور پر قابل اعتراض سمجھا گیا تھا۔ واقعے کے اگلے دن بی جے پی کے کریم پور ڈویڑن 4 کے جنرل سکریٹری ہیرک بھٹاچاریہ نے ندیا ضلع کے ہوگلبیڑیا پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف تحریری شکایت درج کرائی تھی۔ اس کی بنیاد پر پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔ مہوا موئترا نے پولیس کارروائی کے خلاف ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔ جولائی میں جسٹس بھٹاچاریہ کی بنچ نے انہیں 5 اکتوبر تک کسی بھی جبر کی کارروائی سے عبوری راحت دی تھی، جسے اب عدالت نے ایک بار پھر بڑھا دیا ہے۔