تاثیر3 نومبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 3 نومبر: دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے منی پور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ بیمول اکوئیجام کو جنسی ہراسانی کے ایک معاملے میں عبوری راحت دی ہے۔ اسپیشل جج دگ وجے سنگھ نے اکوئیجام کی پیشگی ضمانت کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 5 نومبر کو ہوگی۔ عدالت نے 5 نومبر تک ان کی گرفتاری پر روک لگا دی ہے۔
اکوئیجام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے اور قانونی طریق? کار پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس معاملے میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) نے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا تھا، تاہم آج ہی ہائی کورٹ نے برطرفی کے حکم پر روک لگا دی ہے۔ اکوئیجام کو 9 اکتوبر کو برطرف کیا گیا تھا۔ ملازمت سے برطرفی کے بعد 12 اکتوبر 2026 کو دہلی پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، مئی میں کم از کم 11 طالبات نے ان کے خلاف جنسی ہراسانی کی شکایات درج کرائی تھیں۔ اکوئیجام جے این یو کے اسکول آف سوشل سائنسز کے ’سینٹر فار دی اسٹڈی آف سوشل سسٹمز‘ سے وابستہ تھے۔

