ضلع کانگرس کے مختلف سیل کے ذریعے احتجاجی مارچ نکالا گیا ،کانگریسی کارکنان نے چیف الیکشن کمشنر کا پتلا نظر آتش کیا

تاثیر 27 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھاگلپور ( منہاج عالم)ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے گزشتہ دو برسوں سے چلائی جا رہی ووٹر لسٹ کی نظرثانی (ووٹر ریویژن) کے نام پر ملک کے کروڑوں لوگوں سے ان کا حقِ رائے دہی چھین لیا گیا۔ گیانیش کمار نے یہ کارنامہ بی جے پی کے اشاروں پر کیا تاکہ دھاندلی کے ذریعے کسی نہ کسی طرح الیکشن جیتا جا سکے۔یہ باتیں سابق رکن اسمبلی اجیت شرما نے
کہی۔انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت کے قتل جیسا عمل ہے۔ یہی نہیں، گیانیش کمار نے اپنے دو ساتھی الیکشن کمشنروں کے مشورے کو بھی درکنار کرتے ہوئے ایسا اقدام کیا۔ ضلع سطح کے حکام سے اختیارات چھین کر انہیں براہِ راست اپنے دائرہ اختیار میں لے لیا تاکہ ان کی یہ سازش عوام کی نظروں میں نہ آ سکے۔ گیانیش کمار کا یہ عمل غداریِ وطن کے مترادف ہے، لہٰذا انہیں فوری طور پر عہدے سے برطرف کر کے ان کی گرفتاری یقینی بنائی جائے۔ بہار، بنگال اور آسام جیسی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کو منسوخ کر کے دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔ مذکورہ  خیالات کا اظہار بھاگلپور کے سابق معزز رکنِ اسمبلی جناب اجیت شرما نے کانگریس کے مختلف شعبہ جات کی جانب سے منعقدہ احتجاجی مارچ اور پتلا نذرِ آتش کرنے کے بعد لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احتجاجی مارچ کا آغاز جناب شرما کی رہائش گاہ پر واقع کانگریس کے کیمپ دفتر سے ہوا اور بھاگلپور کلکٹریٹ کے اہم دروازے پر پہنچنے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کا پتلا نذرِ آتش کیا گیا۔اس موقع پر بہار پردیش کانگریس کے نمائندے ڈاکٹر ابھے آنند، وبپن بہاری یادو، سوئن انصاری، انجینئر روی کمار، جیوتی یادو، آرتی سنگھ، میناکشی رائل، پوجا سنگھ، سیف بن ملک، ڈاکٹر پردیپ کمار سنگھ، راجیش سنگھ، شیو شنکر سنہا، شنکر سنگھ اشوک، شیودانی پٹیل، شارق خان، نوری خانم، خوشبو دیوی، اوشا رانی اور پنکج پاسوان سمیت سینکڑوں کارکنان موجود تھے۔